Showing posts with label Fikr-e-Raza Darul Ifta. Show all posts
Showing posts with label Fikr-e-Raza Darul Ifta. Show all posts

Saturday, October 29, 2016

EMI PER KOI CHEEZ KHAREEDNA KAISA HAI?

⌛ سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

ای. ایم. آئ پر کوئ چیز خریدنا کیسا ہے؟ اگر ہم کوئ چیز ای. ایم.آئ پر لیں تو تو کیا وہ چیز حرام ہو جائےگی یا نہیں؟
جیسے بائیک، فرج یا ایر کولر ای. ایم. آئ پر خریدتے ہیں تو اس کی جو اصل قیمت ہوتی ہے اس سے تھوڑی زیادہ قیمت ہفتوں کے حساب سے دینا ہوتا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟

سائل: عبد الرحیم
مقام: ممبئ
تاریخ: 28-10-2016
⌛Sawal:

Kya farmate hai Ulma E Deen Is Mas'ale  Me Ke,

EMI Pe Koi Chiz Kharidna Kaisa Hai ? Agar Hum Koi Chiz EMI Pe Le To Kya
Woh Chiz Kharidna Haraam Ho Jaayega Ya  Nahi ? Jaise Bike, Freeze ya Aircooler EMI Pe Kharidte Hai To Uski Jo Asl Kimat Hoti Hai Usse Thodi Zyaada Kimat Hafto Ke Hisaab Se Dena Hota Hai To Kya Ye Jaaiz Hai ?

Saaeel :- Abdul Rahim
City :- Mumbai
Date :- 28/10/2016
=======================
✍🏼 جواب: 
💠 قسطوں پر سامان لینے دینے میں چند امور کا لحاظ ضروری ہے:

💠 Qisto per samaan lene dene may chand umoor ka lehaz zaroori hai:

📌 فروخت کرنے والے اور خریدار کا متفق ہونا کہ نقد میں یہ چیز اتنے کی ہے اور نقد رقم نہیں بلکہ ادهار پر لینا ہے تو اتنے کی

📌 Farokht wale aur khareedar ka muttafiq hona ke naqad may yeh cheez itne ki hai aur naqad raqam nahy balke udhaar per lena hai to itne ki.

📌 جس چیز کا سودا ہو چکا وہ چیز مثلاً فریج ، اے سی وغیرہ خریدار کے قبضے میں دے دینا.

📌 Jis cheez ka sauda ho chuka woh cheez maslan, fridge, a/c waghaira khareedar ke qabza may dedena.

📌 قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں مالی جرمانہ نہ ہونا ، کیونکہ شریعت مطہرہ نے مالی جرمانہ منسوخ کر دیا ہے اور منسوخ پر عمل حرام ہے.

📘 *( فتاویٰ رضویہ جلد 21 صفحہ 113 )*

📌 Qist ki adaigi may takheer ki surat may (late hone ki wajah se) maali jurmana na hona, kyon ke shariyat e mutehra ne, maali jurmana mansookh (cancel) kardiya hai aur mansookh per amal haram hai.

📘 *(Fatawa e Radawiyya, Part 21, page 113)*

📌 جو معاہدہ پہلے دن ہوا، قیمت کا تعین ہو چکا ، اب اس میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا-
اس صورت میں قسطوں پر سامان خریدنا جائز ہے .

📌 Jo moaheda pehle din hua, qeemat ka ta'ayyun (fixation) ho chuka, ab is maiN izafa nahy kiya ja sakta. Is surat may (is condition may) qisto per saman khareedna jayez hai.

📌 امام اهلسنت مجدد اعظم قدس سرہ العزیز لکهتے ہیں :  ... جائز ہے جبکہ دونوں حقیقتاً بیع کا ارادہ کریں نہ کہ قرض کا ، اس لئے کہ بیچنا جائز اور کمی بیشی جائز اور مدت معین پر ادهار جائز ، جیساکہ ہم سب باتوں کی تحقیق بیان کر آئے *اور اقساط بندی بهی ایک قسم کی مدت ہی معین کرنا ہے ....الخ*

📗 *( فتاویٰ رضویہ جلد 17 صفحہ 493 )*

📌 Imam Ahle Sunnat, Imam Ahmed Raza Qadri Barkati قدس سرہ العزیز likhte haiN : ........... jayez hai jabke dono haqeeqatan bea'ye (khareed o farokht ka mamla) ka irada kareiN na ke qarz ka, is liye ke baychna jayez aur kami beshi jayez, aur muddat e moayyan per udhar jayez, jaisa ke hum sab bato ko tahqeeq bayan kar aaye, *aur iqsat bandi bhi ek qism ki muddad hi moayyin karna hai.*

📗 *(Fatawa e Radawiyya, jild 17, page 493)*

واللہ تعالی اعلم
ا======================|
🖋 رشحات قلم:
*علامہ مفتی محمد حامد سرفراز قادری رضوی*

📚 *فکررضا دارالافتاء*
📱 موبائل: *00971-559060076*
ا======================|
🔸https://m.facebook.com/Fikr.E.Raza.Page/

🔸fikrerazafoundation.blogspot.com

🔸http://alansarlibrary.blogspot.in/
* * * * * * * * * * * * * *

Saturday, October 22, 2016

قبر کے تیسرے سوال کی دلیل صحیح حدیث سے ثابت ہے

سوال:

*قبر میں جو 3 سوال پوچھے جاینگے ۔*

*اس میں تیسرا سوال جو کے آقا کریم ﷺ سے بارے میں ہے کس حدیث پاک سے ثابت ہے ؟*

*حدیث پاک مع حوالہ جلد از جلد عنایت فرمائیں*

💈سائل : محمّد آصف قاسم نثار رضا قادرى
🏠 مقام : پاکستان کراچی
🌈 مورخہ : 19-10-2016

*جزاك اللّه خيرا كثيرا  فى الدارین.*

*🌹ﷺ🌹*
ا________________________________|

✍🏼 جواب:
یہ حدیث پاک سنن ابی داؤد اور صحیح البخاری میں موجود ہے ابی داؤد اور بخاری دونوں کے عربی اور اردو الفاظ نیچے آنے والی عبارت میں ملاحظہ کریں.

📂 الحدیث:
وياتيه ملكان فيجلسانه فيقولان له :من ربك؟ فيقول:ربي الله ، فيقولان له :ما دينك؟ فيقول:ديني الإسلام، فيقولان له : ماهذا الرجل بعث فيكم؟ قال:فيقول:هو رسول الله ﷺ، فيقولان: و ما يدريك؟ فيقول:قرأت كتاب الله فامنت به وصدقت.

📗 *( سنن أبي داود، كتاب السنة، باب في المسألة في القبر و عذاب القبر، الحديث:4753،ج4، ص266.)*

📖 ترجمہ و مفہوم:
اور دو فرشتے آتے ہیں اس کو بٹھاتے ہیں دونوں اسے کہتے ہیں. تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے. پهر دونوں اسے کہتے ہیں.تیرا دین کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے میرا دن اسلام ہے. پھر دونوں اس سے کہتے ہیں. تو ان کے بارے میں کیا کہتا ہے جن کو تمہاری طرف بہیجا گیا؟ وہ ان سے کہتا ہے وہ الله کے رسول ﷺ ہیں. تو وہ دونوں اس سے کہتے ہیں تو نے کیسے جانا؟ تو وہ کہتا ہے میں نے اللہ کی کتاب میں پڑھا ہے اور میں ان پر ایمان لایا اور وہ سچے ہیں.

📂 الحدیث:
أتاه ملكان فيقعدان فيقولان:ما كنت تقول في الرجل لمحمد ﷺ؟ فاما المومن فيقول:أشهد أنه عبد الله و رسوله.

📙 *( صحيح البخاري، كتاب الجنائز، باب ما جاء في عذاب القبر ، الحديث:1374، ج1، ص463.)*

📖 ترجمہ و مفہوم:
اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اس کو بٹھاتے ہیں اور دونوں اسے کہتے ہیں. تو اس شخص محمد ﷺ کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ اگر مومن ہوتا ہے تو کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں بیشک وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں.

واللہ عزوجل و رسوله ﷺ أعلم
ا======================|

🖍 *گلزار قلم :*
مولانا گلفام رضا قادری برکاتی سعدی

🖥 *فکر رضا دارالافتاء*
موبائل: *00971-559060076*
ا======================|

https://m.facebook.com/Fikr.E.Raza.Page/

fikrerazafoundation.blogspot.com

http://alansarlibrary.blogspot.in/

ا###################|

Saturday, October 8, 2016

آب حیات کے متعلق ایک وضاحت

*سوال*

*آبِ حیات کی حقیقت کیا ہے ؟*

*اور حضرت سیدنا خضر علیہ السلام نے کیا آبِ حیات نوش فرمایا تھا ؟*

رہنمائی فرمائیں

💈سائل : محمّد آصف قاسم نثار رضا قادرى
🏠 مقام : پاکستان کراچی
🌈 مورخہ : 28-09-2016

*جزاك اللّه خيرا كثيرا  فى الدارین.*

*🌹ﷺ🌹*
====================
💾 جواب:
لوگ اس کو افسانے کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتے ہیں۔ اس اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آبِ حیات کا تذکرہ نہ تو کلام اللہ کی کسی آیت میں ہے اور نہ ہی کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی روایت میں ہے۔

🔦 کچھ مفسرین نے سورہ کہف کی ان آیات کی تفسیر کرتے ہوئے آبِ حیات کے بارے میں بات کی ہے، جن میں حضرت ذوالقرنین کے سفر کا تذکرہ ہے۔

*حضور صدر الفاضل حضرت سید نعیم الدین مرادآبادی بانی جامعہ نعیمیہ مرادآباد یوپی، تفسیر خزائن العرفان میں سورہ الکہف کی آیت نمبر 86 تا 98 کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں*:

"حضرت ذوالقرنین نے پرانی کتابوں میں پڑھا تھا کہ سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک شخص چشمہ حیات سے پانی پی لے گا تو اس کو موت نہ آئے گی۔ اس لئے حضرت ذوالقرنین نے مغرب کا سفر کیا۔ آپ کے ساتھ حضرت خضر علیہ السلام بھی تھے۔ وہ آب حیات کے چشمہ پر پہنچ گئے اور اس کا پانی بھی پی لیا، مگر حضرت ذوالقرنین کے مقدر میں نہیں تھا وہ محروم رہ گئے۔ اس سفر میں آپ جانبِ مغرب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی کا نام و نشان ہے وہ سب منزلیں طے کر کے آپ ایک ایسے مقام پر پہنچے کہ انہیں سورج غروب کے وقت ایسا نظر آیا کہ وہ ایک سیاہ چشمہ میں ڈوب رہا ہے جیسا کہ سمندری سفر کرنے والوں کو آفتاب سمندر کے کالے پانی میں ڈوبتا نظر آتا ہے۔ وہاں ان کو ایک ایسی قوم ملی جو جانوروں کی کھال پہنے ہوئے تھی۔ اس کے سوا کوئی دوسرا لباس ان کے بدن پر نہیں تھا اور دریائی مردہ جانوروں کے سوا ان کی غذا کا کوئی دوسرا سامان نہیں تھا۔ یہ قوم ''ناسک'' کہلاتی تھی۔ حضرت ذوالقرنین نے دیکھا کہ ان کے لشکر بے شمار ہیں اور یہ لوگ بہت ہی طاقتور اور جنگجو ہیں۔ تو حضرت ذوالقرنین نے ان لوگوں کے گرد اپنی فوجوں کا گھیرا ڈال کر ان لوگوں کو بےبس کردیا۔ چنانچہ کچھ تو مشرف بہ ایمان ہو گئے کچھ آپ کی فوجوں کے ہاتھوں مقتول ہو گئے۔

🔦 اسی طرح تفسیر خازن میں امام علاؤالدین علی بن محمد نے اور شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر اور الیاس جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں، اور ہر سال زمانہ حج میں ملتے ہیں، اور یہ کہ حضرت خضر نے چشمہ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی بھی پیا تھا۔

📝 *_آب حیات یا چشمہ حیات کے بارے میں یہی معلومات کتب میں درج ہیں۔ اصل حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔_*

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
======================
🖍 *گلزار قلم :*
مولانا گلفام رضا قادری برکاتی سعدی

🖥 *فکر رضا دارالافتاء*
موبائل: *00971-559060076*
======================
https://m.facebook.com/Fikr.E.Raza.Page/

fikrerazafoundation.blogspot.com

http://alansarlibrary.blogspot.in/

#################

Sunday, September 25, 2016

جمعہ کی مبارکباد دینا جائز ؟

💈سوال:
کیا جمعہ کی مبارکباد دینا جائز ہے؟

نام:
محمد فیضان معین الدین ثاقبی

مقام:
حیدرآباد

تاریخ: 17/09/2016
============================

📝 جواب:
جمعہ کے دن کو احادیث نبویہ میں عید سے تعبیر کیا گیا ہے.

كما جاء في الحديث عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : (إِنَّ هَذَا يَوْمُ عِيدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ ، فَمَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ ، وَإِنْ كَانَ طِيبٌ فَلْيَمَسَّ مِنْهُ ، وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ) رواه ابن ماجه (1098) وحسَّنه الألباني في "صحيح ابن ماجه" .

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنهما سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک جمعہ کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عید کا دن بنایا ہے۔ جو شخص جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے آئے اسے چاہئے کہ غسل کرے اور جسے خوشبو میسر ہو وہ خوشبو بھی لگائے اور مسواک کو اپنے لئے لازم سمجھو۔

📋 اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ یہ عید (خوشی) کا دن ہے جو ہر ہفتہ میں ایک بار آتا ہے.

غرضیکہ اس طرح مسلمانوں کی تین عید ہوجاتی ہیں۔ ایک عید الفطر دوسری عید الاضحی اور تیسری جمعہ کا دن۔ عید الفطر اور عیدالاضحی کے موقع پر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایک دوسرے کو مبارک بادی پیش کرنا ثابت ہے۔ لیکن جمعہ کے دن مبارک بادی پیش کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتاہے، لیکن جمعہ ہفتہ کی عید ہے.

⚡اور اب رہا یہ مسئلہ کہ جمعہ کی مبارک باد دینا حدیث سے ثابت نہیں ہے یہ نئی چیز ہے جو پہلے نہ تهی اس لئے یہ بدعت ہے؟

📋 اس لئے جاننا ضروری ہے کہ ہر بدعت بری نہیں ہوتی بدعت اچھی بھی ہوتی ہے۔ اچھی بدعت اپنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ جو چیزیں حرام یا منع ہیں ان کے بارے میں قرآن وحدیث میں ممانعت کے احکام موجود ہیں۔ جس کی بنا پر فقہاء کرام نے اصول وقواعد وضع کر لیے ہیں کہ آئندہ جو بھی نئی چیز آئے گی اس کے جائز یا ناجائز ہونے کے بارے میں کیا طریقہ اپنایا جائے گا۔ لیکن بدقسمتی سے چند عناصر ایسے ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کو اسلام سے خارج کرنے کے لیے شرک اور بدعت کی مشینیں چلا رکھی ہیں۔ یہ کوئی قاعدہ نہیں ہے کہ فلاں کام سب سے پہلے کس صحابی نے کیا؟ کس نبی نے کیا؟ یا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا یا نہیں کیا؟ تم کیوں کرتے ہو؟ پھر تو بہت سے کام ہیں جو اس وقت نہیں کیے جاتے تھے جو آج ہم کرتے ہیں مثلا موبائل سب سے پہلے کس صحابی نے استعمال کیا؟ کیا حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے موٹر سائیکل، کار، ٹرین یا بس میں سفر کیا؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں مسجدیں ایسی تھیں جس طرح آج ہیں؟ اس طرح بہت سے سوالات اٹھتے ہیں لیکن ان سب کا جواب یہی ہے کہ قرآن وحدیث اور آثار صحابہ کے بتائے ہوئے قوانین کے مطابق ہر نئے کام کو پرکھا جائے گا اگر کوئی ممانعت نہ ہو تو ہر نئی سے نئی چیز کو قبول کیا جائے گا۔ اسی میں مسلمانوں کی بقا ہے اور یہی شرعی طریقہ ہے۔ اس لیے ہمیں قرآن وحدیث کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے نہ کہ چند نام نہاد ملاؤں کے گندے خیالات کے مطابق گزارنی ہے۔
لہذا کسی اچھے دن، اچھے کام یا کوئی بھی اللہ تعالی کی نعمت کے حصول پر کسی کو مبارک باد کہنا کوئی برا عمل نہیں ہے۔ مبارک باد کے معانی کوئی گالی دینا نہیں ہیں یا اس کا کوئی برا مطلب نہیں ہے۔ جب یہ عمل برا نہیں ہے تو پھر لوگوں کو منع کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ جس کی طبعیت اللہ تعالی کی نعمت کو برکت نہ سمجھے وہ مبارک باد نہ دے، لیکن جو اچھا کام کرے اس کو منع نہ کیا جائے۔ اللہ تعالی ہمیں دین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
=============================
💻 *فکرِ رضا دارالافتاء،*
✍🏼 *_حضرت مولانا گلفام رضا برکاتی سعدی_*
(مدظلہ النوراني)
موبائل: *00971-559060076*
***************************
💻 *فکر رضا فیس بوک:*
https://m.facebook.com/Fikr.E.Raza.Page/

🖥 *فکر رضا بلاگ:*
fikrerazafoundation.blogspot.com

📚 *فکر رضا مکتبہ (اسلامی کتب):*
http://alansarlibrary.blogspot.in/

کیا اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

📢 سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے -
علماء احناف کے دلائل سے واضح جوابات سے نوازیں -

🗓 محمد ساجد اشرفی
============================
📝 جواب:
*اونٹ کا گوشت کهانے سے وضو فاسد نہیں ہوتا.*

💎 صحیح مسلم،  کتاب الحیض میں حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے پوچھا کہ کیا بکری کا گوشت کهانے کے بعد وضو کیا کریں؟  حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
اگر چاہو تو وضو کرو اور اگر چاہو تو نہ کرو
اس نے عرض کی اونٹ کا گوشت کهانے کے بعد وضو کیا کریں؟ فرمایا :
ہاں اونٹ کا گوشت کهانے کے بعد وضو کیا کرو..الخ

📘 ( صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب الوضوء من لحوم الابل)

📝 جن کا موقف ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو لازم ہے ان کی دلیل یہی حدیث پاک ہے جو بیان کی گئی مگر جمہور صحابہ کرام، تابعین اور آئمہ ثلاثہ رضی اللہ تعالٰی عنهم اجمعین کا مذہب یہ ہے کہ اونٹ کا گوشت کهانے سے وضو نہیں ٹوٹتا  جمہور فقہاء نے اس کو وضو لغوی یعنی کلی کرنے پر محمول کیا ہے.

💎 محدث جلیل فقیہہ عظیم امام ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی الحنفی رضی اللہ تعالٰی عنہ مذکورہ حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
*..... ممکن ہے وضو سے سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی مراد ہاتھ دهونا ہو انہوں نے اونٹ اور بکری کے گوشت میں اس لئے فرق کیا ہے کہ اونٹ کے گوشت میں چکناہٹ زیادہ ہوتی ہے لہٰذا کهانے والے کے ہاتھ پر چربی کے غلبہ کی وجہ سے اسے ہاتھ پر چهوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی اور چونکہ بکری (کے گوشت میں)  یہ بات نہیں ہوتی لہذا اس کےلئے وضو نہ کرنا (یعنی ہاتھ نہ دهونا) جائز رکها گیا ہے.
💎 ہم نے پہلے باب میں حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت سے نقل کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا آخری عمل یہ تها کہ آپ نے آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو کرنا ترک فرما دیا تها جب کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا پہلا عمل یہ تها کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم آگ پر پکی ہوئی چیز تناول فرمانے کے بعد وضو فرماتے اور اس میں اونٹ کا گوشت وغیرہ برابر تهے تو اس کے چهوڑنے سے اونٹ کے گوشت سے وضو کا ترک کرنا بهی ثابت ہوگیا.

💎 روایات کے طور پر اس باب کا حکم یہ ہے اور غور و فکر کے طور پر یہ کہ ہم نے دیکها کہ اونٹ اور بکری کی خرید و فروخت ان کا دودھ پینے اور گوشت کے پاک ہونے میں برابر ہیں، اس سلسلے میں ان کے احکام میں کوئی تفاوت نہیں تو قیاس کا تقاضا ہے کہ ان کا گوشت کهانے کے سلسلے میں ایک جیسا حکم ہو پس جس طرح بکری کا گوشت کهانے سے وضو لازم نہیں آتا اسی طرح اونٹ کا گوشت کهانے سے بهی (وضو) لازم نہیں آتا-
*وهو قول ابی حنیفہ و ابی یوسف و محمد بن الحسن رحمهم اللہ تعالیٰ*  امام اعظم ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن رضی اللہ تعالٰی عنهم کا یہی قول ہے

📚 (  شرح معانی الآثار المعروف طحاوی شریف جلد 1 باب اکل ماغیرت النار هل یوجب الوضو ام لا)

🙌🏼  واللہ تعالی اعلم
=============================
📚 *فکرِ رضا دارالافتاء،*
امین فکر رضا،
*حضرت علامہ حامد سرفراز قادری رضوی*
(مدظلہ النوراني)
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
🕌 *فکر رضا* 🖋
برصغیر و عرب تعاون ٹیم کی کارکردگی !
                 *00971-559060076*

💻 *فکر رضا فیس بوک:*
https://m.facebook.com/Fikr.E.Raza.Page/

🖥 *فکر رضا بلاگ:*
fikrerazafoundation.blogspot.com

📂 *فکر رضا آن لائن لائبریری (اسلامی کتب)*  
http://alansarlibrary.blogspot.in/
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

لفظ "سید" کی اقسام اور ان کا مناسب استعمال

السلام عليكم و رحمة الله و بركاته

*سوال*

علمائے کرام کی بارگاہ میں عرض ہے ۔

۔ سید
۔ سیدی
۔ سیدنا
۔ سیدتنا

ان الفاظ کے معنی کیا ہیں اور یہ الفاظ کہاں کہاں استعمال کے جاتے ہیں ۔  یعنی ان الفاظ کا استعمال کیسے کیا جائے ۔

کیا ان الفاظ کا استعمال غیر انبیاء اور غیر سید کے لئے بھی کیا جا سکتا ہے اگر ہاں تو وہ کیا صورتیں  ہیں ۔

رہنمائی فرمائیں.

💈سائل : محمّد آصف قاسم نثار رضا قادرى
🏠 مقام : پاکستان کراچی
🌈 مورخہ : 15-09-2016

جزاك اللّه خيرا كثيرا  فى الدارین.

🌹ﷺ🌹

🌹ﷺ🌹
=============================
جواب:
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ:

💠 *سید کا معنی ہے سردار*
💠 *سیدی کا معنی ہے میرے سردار*
💠 *سیدنا کا معنی ہے ہمارے سردار*
💠 *سیدتنا  اس کا معنی بهی یہی ہے مگر یہ صحابیات و ولیات رضی اللہ تعالٰی عنهن کےلئے استعمال ہوتا ہے،*

🚫 *_ہمارے ہاں (برے صغیر ہند و پاک و بنگال و سری لنکا وغیرہ میں) مطلقاً " سید " کا لفظ سادات کرام کےلئے بولا جاتا ہے. لہٰذا غیر سید کے نام کے ساتھ نہ لکها جائے_*

💠 *سیدی کا لفظ صحیح العقیدہ سنی عالم ، پیر کامل کےلئے بولا جاسکتا ہے،*

💠 *اسی طرح سیدنا یعنی ہمارے سردار  کا اطلاق حضرات انبیائے کرام علیهم السلام و صحابہ کرام اور اولیائے عظام رضی اللہ تعالٰی عنهم اجمعین کےلیے بولا جاسکتا ہے،*

💠 *سیدتنا کا اطلاق صحابیہ اور ولیہ کےلئے جائز ہے.*

واللہ تعالی اعلم
=============================
📚 *فکرِ رضا دارالافتاء،*
امین فکر رضا،
*حضرت علامہ حامد سرفراز قادری رضوی*
(مدظلہ النوراني)
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
🕌 *فکر رضا* 🖋
برصغیر و عرب تعاون ٹیم کی کارکردگی !
                 *00971-559060076*

💻 *فکر رضا فیس بوک:*
https://m.facebook.com/Fikr.E.Raza.Page/

🖥 *فکر رضا بلاگ:*
fikrerazafoundation.blogspot.com

فکر رضا آن لائن لائبریری (اسلامی کتب)
http://alansarlibrary.blogspot.in/
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

قضا نمازوں کا ثبوت احادیث مبارک می

⏳سوال:
علمائے کرام کی بارگاہ میں عرض ہے ۔ بد مذہب یہ کہ رہا ہے کے قضاء نماز کی کوئی دلیل قرآن حدیث سے نہیں ملتی ۔ براۓ مہربانی دلیل مع حوالہ عنایت فرمائیں.

💈سائل : محمّد آصف قسم نثار رضا قادرى
🏠 مقام : پاکستان کراچی
🌈 مورخہ : 10-09-2016

جزاك اللّه خيرا كثيرا  فى الدارین.

🌹ﷺ🌹
=============================
🌠 جواب:
غزوہ خندق میں حضور جان عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی چار نمازیں مشرکین کی وجہ سے جاتی رہیں یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ چلا گیا ، حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حکم فرمایا ، انہوں نے اذان و اقامت کہی تو مغرب کی پڑهی ، پهر اقامت کہی تو عشا کی نماز پڑهی

📘 ( السنن کبری للبہیقی،  کتاب الصلوٰہ، باب الاذان والاقامتہ للجمع بین صلوات فائتات جلد 1 صفحہ 592)

📿 صحیح مسلم، کتاب المساجد میں باب ہے *قضآء الصلوہ الفائتہ و استحباب تعجیل قضآئها*
یعنی قضا نمازوں کی جلد ادائیگی کا استحباب.

📿 اس باب کی دوسری حدیث پاک ہے :
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ساتھ رات کے آخر میں قیام پذیر ہوئے، اور ہم میں سے کوئی شخص بیدار نہیں ہوا حتی کہ سورج طلوع ہوگیا-
سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
ہر شخص اپنی سواری کی لگام پکڑ کر یہاں سے روانہ ہوجائے کیونکہ جس جگہ ہم ٹهرے تهے وہاں شیطان کا اثر ہے، ہم نے ایسا ہی کیا پهر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم پانی منگا کر وضو کیا اور دو رکعت نماز ( فجر کی سنتیں) پڑهی پهر نماز کی اقامت کہی گئی اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فجر کی نماز ( جو کہ قضا ہوئی تهی)  پڑهائی، نماز سے فراغت کے بعد ارشاد فرمایا :
*تم میں سے کوئی شخص جب نماز بهول جائے تو نماز یاد آتے ہی پڑهه...الخ*

📿 احادیث مبارکہ اور بهی ہیں مگر ماننے والے کےلئے یہی کافی.

📋 *عجیب بات ہے کہ محدثین کرام نے کتب احادیث میں باقاعدہ قضا نمازوں کے متعلق باب قائم کئے اور منکر کہہ رہا ہے کہ ثبوت کوئی نہیں.*

📿 اللہ تعالیٰ بدعقیدہ لوگوں سے محفوظ رکھے.

واللہ تعالی اعلم
=============================
🖥 *فکرِ رضا دارالافتاء،*
امین فکر رضا،
*حضرت علامہ حامد سرفراز قادری رضوی*
(مدظلہ النوراني)
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
📚 *فکر رضا* 🖋
برصغیر و عرب تعاون ٹیم کی کارکردگی !
                 *00971-559060076*
****************************
💻 *فکر رضا فیس بوک:*
https://m.facebook.com/Fikr.E.Raza.Page/
===========================
🖥 *فکر رضا بلاگ:*
fikrerazafoundation.blogspot.com
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
فکر رضا مکتبہ )اسلامی کتب(
http://alansarlibrary.blogspot.in/

یزید کی خلافت تھی یا نہیں، وضاحت ملاحضہ فرمائیں!

⏳ سوال:
یزید کی خلافت تھی یا نہیں؟ کیا صحابہ نے یزید جو خلیفہ مانا؟
3 سال تک اس کی خلافت تھی یا نہیں؟
حضرت رہنمائ فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی.
=============================
🛢جواب:
یزید پلید کے متعلق امام اهلسنت مجدد اعظم قدس سرہ العزیز لکهتے ہیں :
یزید پلید علیہ مایستحقہ من العزیز المجید قطعاً یقیناً باجماع اہلسنت فاسق و فاجر و جری علی الکبائر تها اس قدر پر آئمہ اہل سنت کا اطباق و اتفاق ہے، صرف اس کی تکفیر و لعن میں اختلاف فرمایا.

💠 امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے اتباع و موافقین اسے کافر کہتے اور بہ تخصیص نام اس پر لعن کرتے ہیں. ..الخ

📗 *( فتاویٰ رضویہ جلد 14 صفحہ 591)*

💠 یزید پلید خلافت راشدہ کے طریقے پر ہرگز ہرگز خلیفہ نہ تها، اور نہ ہی اس کی تخت نشینی خلافت کے اصولوں پر ہوئی بلکہ اس کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنا ولی عہد مقرر کیا تها.

💠 حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنهم اجمعین کے بیعت کرنے کے متعلق جو پوچها گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ علامہ ابن اثیر نے الکامل میں اور ابن خلدون نے مقدمہ میں ابن خلدون میں تفصیل سے لکها کہ یہ بیعت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور میں ہی لی گئی تهی.

📋 اور اس وقت یزید پلید کے فسق و فجور کهل کر عیاں نہ تهے.

💠 یہاں پر یہ بات بھی واضح رہے کہ سید الشہداء سرکار سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یزید پلید کے خلاف جنگ لڑنے کےلئے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنهم اجمعین کو دعوت نہیں دی تهی.

💠 واقعہ کربلا تو اہل کوفہ کی دعوت پر تشریف لیجانے کے ضمن میں پیش آیا.

💠 جب حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنهم اجمعین پر یزید پلید کی خباثتیں ظاہر ہوئیں کہ یہ شراب پیتا ہے،  ستار بجاتا اور گانا گاتا ہے، کتوں سے کهیلتا ہے، نمازوں کا تارک ہے تو ان نفوس قدسیہ نے یزید پلید کی بیعت کو توڑ دیا چنانچہ حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ تعالٰی عنهما  فرماتے تھے:
*اے قوم! خدا کی قسم ہم یزید کے خلاف اس وقت اٹهه کهڑے ہوئے جب ہمیں یہ خوف لاحق ہوگیا کہ اس کی بدکاریوں کیوجہ سے ہم پر کہیں آسمان سے پتهر نہ برس پڑیں*

💠 اہل مدینہ مسجد اقدس میں منبر پرنور کے قریب جمع ہوئے اور یزید پلید کی بیعت توڑنے کا اعلان کیا.

📝 *ان روایات کو ابی الفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد ابن الجوزی ( متوفی 597) نے اپنی کتاب *الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید* میں نقل کیا.

واللہ تعالی اعلم
=============================
🖥 *فکرِ رضا دارالافتاء،*
امین فکر رضا،
*حضرت علامہ حامد سرفراز قادری رضوی*
(مدظلہ النوراني)
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
📚 *فکر رضا* 🖋
برصغیر و عرب تعاون ٹیم کی کارکردگی !
                 *00971-559060076*
****************************
💻 *فکر رضا فیس بوک:*
https://m.facebook.com/Fikr.E.Raza.Page/
===========================
🖥 *فکر رضا بلاگ:*
fikrerazafoundation.blogspot.com
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
فکر رضا مکتبہ )اسلامی کتب(
http://alansarlibrary.blogspot.in/