Showing posts with label Hajj. Show all posts
Showing posts with label Hajj. Show all posts

Thursday, September 15, 2016

فضائل و مسائلِ حج حصہ 22

🖊 *حج کے موقع پر فکر رضا کی پیشکش*
📱موبائل: *00971-559060076*
♻ حصہ 2⃣2⃣
=============================
🔪 *( اجتماعی قربانی)* 3⃣

💎 عورت، سمجھ دار نابالغ،  گونگا؛ ان سب کا ذبیحہ حلال ہے اگر اچهی طرح ذبح کرنا جانتے ہوں

📒 *(فتاویٰ رضویہ جلد20 صفحہ 242)*

💎 جانور کو بهوکا پیاسا ذبح نہ کریں؛اور ایک جانور کے سامنے دوسرے کو ذبح نہ کیا جائے، چهری پہلے سے تیز کرلی جائے ایسا نہ ہو کہ اسے زمین پر گرا کر اسکے سامنے تیز کی جائے؛ گائے وغیرہ کو گرانے سے  پہلے ہی قبلہ رخ کا تعین کرلیا جائے، جس جگہ جانور کو لٹانا یا گرانا ہے اسے صاف کرلیا جائے کہ وہاں کنکر روڑے وغیرہ نہ ہوں، الغرض جانور کو ہر طرح کی اذیت و تکلیف سے بچایا جائے؛
سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا، جب تم ذبح کرو تو احسن طریقہ سے ذبح کرو، تم میں سے کسی شخص کو چاہئیے کہ وہ چهری تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے

📗 *(صحیح مسلم کتاب الصید والذبائح)* 

💎 اور مسند امام احمد میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے، یارسول اللہ صل اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم
مجهے بکری ذبح کرنے پر رحم آتا ہے ، فرمایا اگر اس پر رحم کرو گے اللہ تعالیٰ بهی تم پر رحم فرمائے گا؛ ذبح کرنے میں چار رگیں کٹ جائیں یا کم سے کم تین رگیں کٹ جائیں، اس سے زیادہ نہ کاٹیں کہ چهری گردن کے مہرہ تک پہنچ جائے کہ یہ بے وجہ کی تکلیف ہے، جب تک جانور مکمل طور پر ٹهنڈا نہ ہوجائے نہ اس کے پاؤں کاٹیں نہ کهال اتاریں ؛ بعض قصاب اور گهروں میں جانے آڈر بهگتانے اور مال کمانے کی غرض سے عجلت میں ہوتے ہیں، اور گائے کو ذبح کرتے ہی گردن سے چهری گهونپ کر دل کی رگیں کاٹتے ہیں،  یا بکرے کی گردن بعد ذبح چٹخا دیتے ہیں؛ اس ظلم سے انہیں روکا جائے

📔 *( مذکورہ مسائل کی تفصیل جاننے کےلئے فتاویٰ رضویہ جلد20 اور بہار شریعت حصہ 15 کا مطالعہ فرمائیں)*

💎قربانی کی کهال ہر اس کام میں صرف کرسکتے ہیں جو قربت و کار خیر و باعث ثواب ہو؛مساجد و مدارس اهلسنت کو دے سکتے ہیں، کهال بیچ کر اس رقم سے کتب دینیہ خرید کر مدارس وغیرہ کے طلبہ کو دے سکتے ہیں اگرچہ وہ طلبہ غنی ہوں کہ کتاب باقی رہ کر کام آتی ہے، حاجت مند بیواؤں، یتیموں؛ مسکینوں کو کهال یا اس سے حاصل شدہ رقم دے سکتے ہیں؛ قربانی کرنے والا کهال کو باقی رکهتے ہوئے اپنے کام میں لا سکتا ہے مثلاً اسکی جا نماز، چهلنی (آٹا چهاننے کا آلہ) تهیلی؛ مشکیزہ؛ دسترخوان؛ ڈول؛ یا کتابوں کی جلد بندی میں لگا سکتا ہے؛اگر کسی نے کهال اپنے خرچ میں لانے کےلئے بیچی تو حاصل شدہ دام خبیث ہیں لہذا یہ رقم مسجد یا مسجد کے کسی کام میں نہ لگائی جائے بلکہ فقیر مسلمان پر صدقہ کردی جائے

📒 *( مذکورہ مسائل فتاویٰ رضویہ کی جلد 20 سے اخذ کئے گئے ہیں)*

💎 سیدی اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ سے سوال پوچها گیا کہ زید پردیس میں ہے اس کی جانب سے اس کا کوئی عزیز قربانی کردے تو فرض زید پر سے اتر جائے گا؟
آپ نے جواب عطا فرمایا کہ!
قربانی و صدقہ فطر عبادت ہے اور عبادت میں نیت شرط ہے تو بلا اجازت ناممکن ہے؛ ہاں اجازت کےلئے صراحتاً ہونا ضروری نہیں دلالت کافی ہے؛ مثلاً زید اس کے عیال میں ہے، اس کا کهانا پہننا سب اس کےپاس ہوتا یا یہ (زید کیطرف سے قربانی کرنے والا) اس کا وکیل مطلق ہے، اس کا کار و بار یہ کیا کرتا ہے، ان صورتوں میں ادا ہوجائیگی

📕 *( فتاویٰ رضویہ جلد20 صفحہ 453)*

📋 نوٹ:
بیرون ملک رہنے والے لوگ اپنے کسی عزیز یا  دوست کو اپنی طرف سے قربانی کرنے کی اجازت دیں یا کہہ دیں تو انکی طرف سے  قربانی ہوجائے گی
=============================
🖊 رشحاتِ قلم:
حضور "امین فکر رضا"
*حضرت علامہ محمد حامد سرفراز قادری رضوی*
(مدظلہ  النوراني)
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
📚 *فکر رضا* 🖊
_برًّصغیر و عرب تعاون ٹیم کی کارکردگی !_
موبائل: *00971-559060076*

💻 *فکر رضا فیس بوک:*
https://m.facebook.com/Fikr.E.Raza.Page/

🖥 *فکر رضا بلاگ:*
fikrerazafoundation.blogspot.com

📚 *فکر رضا مکتبہ (اسلامی کتب):*
http://alansarlibrary.blogspot.in/

فضائل و مسائلِ حج حصہ 21

🖊 *حج کے موقع پر فکر رضا کی پیشکش*
📱موبائل: *00971-559060076*
♻ حصہ 1⃣2⃣
=============================
🔪 *( اجتماعی قربانی)* 2⃣

💡اجتماعی قربانی میں تمام شرکا کے درمیان گوشت وزن کرکے تقسیم کیا جائے، اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں،اور ایک دوسرے کو کم یا زیادہ معاف کردینا بهی کافی نہیں، ہاں ایک ہی فیملی کے افراد کہ ایک ہی گهر میں رہتے اور مل جل کر کهاتے ہیں تو وزن کرنے کی حاجت نہیں،

📗 *(تفصیل کےلئے دیکهئے بہارشریعت حصہ 15)*

💡بے احتیاطی سے بچنے کےلئے اسطرح حیلہ کیا جاسکتا ہے کہ شرکائے قربانی سارا گوشت ایسے بالغ مسلمان کو جو اس قربانی میں شریک نہ ہو ہبہ کردیں، یہ شخص سب میں اندازے سے گوشت تقسیم کرسکتا ہے

📙 *(تفصیل، بہارشریعت حصہ 15 و ردالمحتار کتاب الاضحیہ جلد 9)*

💡قربانی کا گوشت خود بهی کها سکتا ہے، اور غنی و فقیر کو بهی کهلا سکتا ہے، گوشت کے تین حصے کرلینا مستحب ہے، ایک حصہ غرباء کےلئے ایک رشتہ دار وں اور دوست احباب کےلئے، اور ایک حصہ اپنے گهر والوں کےلئے، کل صدقہ کرنا بهی جائز اور کل (گوشت) گهر ہی رکهه لے یہ بهی جائز ہے، اگر کنبہ بڑا ہو اور صاحب وسعت نہیں ہے تو بہتر یہ ہے کہ سارا گوشت اپنے بال بچوں ہی کےلئے رکهه چهوڑے

📔 *(بہارشریعت حصہ 15 بحوالہ فتاوی ہندیہ کتاب الاضحیہ باب خامس)*

💡حلال جانور کے سب اجزا حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں،  ان کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے، رگوں کا خون؛ پتا؛ پهکنا؛ علامات نر و مادہ؛ بیضے؛ غدود؛ حرام مغز؛ گردن کے دو پٹهے کہ شانوں تک کهنچے ہوتے ہیں؛ جگر کا خون؛ تلی کا خون؛ گوشت کا خون کہ ذبح کے گوشت میں سے نکلتا ہے؛ دل کا خون؛ پت یعنی وہ زرد پانی کہ پتے میں ہوتا ہے؛ ناک کی رطوبت کہ بهیڑ میں اکثر ہوتی ہے؛ پاخانہ کا مقام؛ اوجهڑی؛ آنتیں؛ نطفہ؛ وہ نطفہ کہ خون ہوگیا؛ وہ کہ گوشت کا لوتهڑا ہوگیا؛ وہ کہ پورا جانور بن گیا اور مردہ نکلا؛ یا بے ذبح مرگیا

📘 *( فتاویٰ رضویہ جلد20 صفحہ 240)*

💡بہتر یہ ہے کہ قربانی (ذبح) اپنے ہاتھ سے کرے اگر اچهی طرح ذبح کرنا جانتا ہو، اگر خود ذبح کرنا نہیں جانتا تو کسی صحیح العقیدہ مسلمان سے ذبح کرائے؛ اور وقت قربانی وہاں موجود ہو،
دوسرے سے ذبح کروایا اور خود اپنا ہاتھ بهی چهری پر رکھ دیا، کہ دونوں (قصاب اور مالک قربانی) نے ملکر ذبح کیا تو دونوں پر بسم اللہ  کہنا واجب ہے، ایک نے بهی جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا نام ترک کیا یا یہ خیال کرکے چهوڑ دیا کہ دوسرے نے کہہ لیا ہے مجهے کہنے کی ضرورت نہیں دونوں صورتوں میں جانور حلال نہ ہوا

📒 *(بہارشریعت حصہ 15 بحوالہ درمختار کتاب الاضحیہ)*
=============================
🖊 رشحاتِ قلم:
حضور "امین فکر رضا"
*حضرت علامہ محمد حامد سرفراز قادری رضوی*
(مدظلہ  النوراني)
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
📚 *فکر رضا* 🖊
_برًّصغیر و عرب تعاون ٹیم کی کارکردگی !_
موبائل: *00971-559060076*

💻 *فکر رضا فیس بوک:*
https://m.facebook.com/Fikr.E.Raza.Page/

🖥 *فکر رضا بلاگ:*
fikrerazafoundation.blogspot.com

📚 *فکر رضا مکتبہ (اسلامی کتب):*
http://alansarlibrary.blogspot.in/

فضائل و مسائلِ حج حصہ 20

🖊 *حج کے موقع پر فکر رضا کی پیشکش*
📱موبائل: *00971-559060076*
♻ حصہ 0⃣2⃣
=============================
🔪 *( اجتماعی قربانی)* 1⃣

💠 گائے (بهینس) اور اونٹ میں سات افراد شریک ہوسکتے ہیں، تمام شرکاء صحیح العقیدہ ہوں، اور سب کی نیت "تقرب" یعنی اللہ تعالی کا حق ادا کرنا مقصود ہو،  گائے کے شرکاء میں اگر ایک شخص کی نیت فقط گوشت حاصل کرنا ہو تو کسی کی بهی قربانی نہیں ہوگی

📔 *( بہارشریعت حصہ 15 بحوالہ درمختار و رد المحتار کتاب الاضحیہ)*

💠 اگر کوئی شخص سات حصوں میں سے کچھ حصے عقیقے کےلئے مقرر کرلے تو جائز ہے
کہ عقیقہ بهی تقرب کی ایک صورت ہے

📙 *(ردالمحتار،  کتاب الاضحیہ جلد 9 فتاویٰ رضویہ جلد20 صفحہ 595؛ بہارشریعت حصہ 15)*

💠 عام طور پر دیکهنے میں آتا ہے کہ تمام گهر والوں کی طرف سے ایک بکرا قربان کردیا جاتا ہے، جبکہ صاحب نصاب ہونے کے سبب اس گهر کے کئی افراد پر قربانی واجب ہوتی ہے؛ اس صورت میں ایک بکرا بهیڑ وغیرہ سب کو کفایت نہیں کریگا، جو جو صاحب نصاب ہیں خواہ مرد ہو یا عورت سب کی طرف سے الگ الگ قربانی کیجائی

📗 *(تفصیل کےلئے دیکهئے فتاویٰ رضویہ جلد20 صفحہ 369)*

💠 میت کی طرف سے ایصال ثواب   کی نیت سےقربانی کرنا جائز ہے، اس میں چند باتیں ملحوظ خاطر رہیں

(1) اگر میت کی طرف سے قربانی کرنے والا خود صاحب نصاب ہے اور ایک ہی جانور کی استطاعت رکهتا ہے، تو اسے قربانی اپنی طرف سے کرنی چاہئے، کہ اس پر واجب ہے میت پر واجب نہیں، اور واجب کا ترک گناہ ہے؛

(2) میت کی طرف سے قربانی  کی  تو اس کا گوشت خود بهی کها سکتا ہے رشتہ داروں کو اور غربا میں تقسیم کرسکتا ہے

(3) اگر مرنے والے کی وصیت و حکم پر قربانی کی تو اس صورت میں تمام گوشت صدقہ کردے خود نہیں کها سکتا؛

📘 *(فتاویٰ رضویہ جلد20  صفحہ 456 ؛ بہارشریعت حصہ 15)*
=============================
🖊 رشحاتِ قلم:
حضور "امین فکر رضا"
*حضرت علامہ محمد حامد سرفراز قادری رضوی*
(مدظلہ  النوراني)
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
📚 *فکر رضا* 🖊
_برًّصغیر و عرب تعاون ٹیم کی کارکردگی !_
موبائل: *00971-559060076*

💻 *فکر رضا فیس بوک:*
https://m.facebook.com/Fikr.E.Raza.Page/

🖥 *فکر رضا بلاگ:*
fikrerazafoundation.blogspot.com

📚 *فکر رضا مکتبہ (اسلامی کتب):*
http://alansarlibrary.blogspot.in/

فضائل و مسائلِ حج حصہ 22

🖊 *حج کے موقع پر فکر رضا کی پیشکش*
📱موبائل: *00971-559060076*
♻ حصہ 2⃣2⃣
=============================
🔪 *(قربانی کے مسائل)* 3⃣

💎 عورت، سمجھ دار نابالغ،  گونگا؛ ان سب کا ذبیحہ حلال ہے اگر اچهی طرح ذبح کرنا جانتے ہوں

📒 *(فتاویٰ رضویہ جلد20 صفحہ 242)*

💎 جانور کو بهوکا پیاسا ذبح نہ کریں؛اور ایک جانور کے سامنے دوسرے کو ذبح نہ کیا جائے، چهری پہلے سے تیز کرلی جائے ایسا نہ ہو کہ اسے زمین پر گرا کر اسکے سامنے تیز کی جائے؛ گائے وغیرہ کو گرانے سے  پہلے ہی قبلہ رخ کا تعین کرلیا جائے، جس جگہ جانور کو لٹانا یا گرانا ہے اسے صاف کرلیا جائے کہ وہاں کنکر روڑے وغیرہ نہ ہوں، الغرض جانور کو ہر طرح کی اذیت و تکلیف سے بچایا جائے؛
سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا، جب تم ذبح کرو تو احسن طریقہ سے ذبح کرو، تم میں سے کسی شخص کو چاہئیے کہ وہ چهری تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے

📗 *(صحیح مسلم کتاب الصید والذبائح)* 

💎 اور مسند امام احمد میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے، یارسول اللہ صل اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم
مجهے بکری ذبح کرنے پر رحم آتا ہے ، فرمایا اگر اس پر رحم کرو گے اللہ تعالیٰ بهی تم پر رحم فرمائے گا؛ ذبح کرنے میں چار رگیں کٹ جائیں یا کم سے کم تین رگیں کٹ جائیں، اس سے زیادہ نہ کاٹیں کہ چهری گردن کے مہرہ تک پہنچ جائے کہ یہ بے وجہ کی تکلیف ہے، جب تک جانور مکمل طور پر ٹهنڈا نہ ہوجائے نہ اس کے پاؤں کاٹیں نہ کهال اتاریں ؛ بعض قصاب اور گهروں میں جانے آڈر بهگتانے اور مال کمانے کی غرض سے عجلت میں ہوتے ہیں، اور گائے کو ذبح کرتے ہی گردن سے چهری گهونپ کر دل کی رگیں کاٹتے ہیں،  یا بکرے کی گردن بعد ذبح چٹخا دیتے ہیں؛ اس ظلم سے انہیں روکا جائے

📔 *( مذکورہ مسائل کی تفصیل جاننے کےلئے فتاویٰ رضویہ جلد20 اور بہار شریعت حصہ 15 کا مطالعہ فرمائیں)*

💎قربانی کی کهال ہر اس کام میں صرف کرسکتے ہیں جو قربت و کار خیر و باعث ثواب ہو؛مساجد و مدارس اهلسنت کو دے سکتے ہیں، کهال بیچ کر اس رقم سے کتب دینیہ خرید کر مدارس وغیرہ کے طلبہ کو دے سکتے ہیں اگرچہ وہ طلبہ غنی ہوں کہ کتاب باقی رہ کر کام آتی ہے، حاجت مند بیواؤں، یتیموں؛ مسکینوں کو کهال یا اس سے حاصل شدہ رقم دے سکتے ہیں؛ قربانی کرنے والا کهال کو باقی رکهتے ہوئے اپنے کام میں لا سکتا ہے مثلاً اسکی جا نماز، چهلنی (آٹا چهاننے کا آلہ) تهیلی؛ مشکیزہ؛ دسترخوان؛ ڈول؛ یا کتابوں کی جلد بندی میں لگا سکتا ہے؛اگر کسی نے کهال اپنے خرچ میں لانے کےلئے بیچی تو حاصل شدہ دام خبیث ہیں لہذا یہ رقم مسجد یا مسجد کے کسی کام میں نہ لگائی جائے بلکہ فقیر مسلمان پر صدقہ کردی جائے

📒 *( مذکورہ مسائل فتاویٰ رضویہ کی جلد 20 سے اخذ کئے گئے ہیں)*

💎 سیدی اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ سے سوال پوچها گیا کہ زید پردیس میں ہے اس کی جانب سے اس کا کوئی عزیز قربانی کردے تو فرض زید پر سے اتر جائے گا؟
آپ نے جواب عطا فرمایا کہ!
قربانی و صدقہ فطر عبادت ہے اور عبادت میں نیت شرط ہے تو بلا اجازت ناممکن ہے؛ ہاں اجازت کےلئے صراحتاً ہونا ضروری نہیں دلالت کافی ہے؛ مثلاً زید اس کے عیال میں ہے، اس کا کهانا پہننا سب اس کےپاس ہوتا یا یہ (زید کیطرف سے قربانی کرنے والا) اس کا وکیل مطلق ہے، اس کا کار و بار یہ کیا کرتا ہے، ان صورتوں میں ادا ہوجائیگی

📕 *( فتاویٰ رضویہ جلد20 صفحہ 453)*

📋 نوٹ:
بیرون ملک رہنے والے لوگ اپنے کسی عزیز یا  دوست کو اپنی طرف سے قربانی کرنے کی اجازت دیں یا کہہ دیں تو انکی طرف سے  قربانی ہوجائے گی
=============================
🖊 رشحاتِ قلم:
حضور "امین فکر رضا"
*حضرت علامہ محمد حامد سرفراز قادری رضوی*
(مدظلہ  النوراني)
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
📚 *فکر رضا* 🖊
_برًّصغیر و عرب تعاون ٹیم کی کارکردگی !_
موبائل: *00971-559060076*

💻 *فکر رضا فیس بوک:*
https://m.facebook.com/Fikr.E.Raza.Page/

🖥 *فکر رضا بلاگ:*
fikrerazafoundation.blogspot.com

📚 *فکر رضا مکتبہ (اسلامی کتب):*
http://alansarlibrary.blogspot.in/

فضائل و مسائلِ حج حصہ 21

🖊 *حج کے موقع پر فکر رضا کی پیشکش*
📱موبائل: *00971-559060076*
♻ حصہ 1⃣2⃣
=============================
🔪 *(قربانی کے مسائل)* 2⃣

💡اجتماعی قربانی میں تمام شرکا کے درمیان گوشت وزن کرکے تقسیم کیا جائے، اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں،اور ایک دوسرے کو کم یا زیادہ معاف کردینا بهی کافی نہیں، ہاں ایک ہی فیملی کے افراد کہ ایک ہی گهر میں رہتے اور مل جل کر کهاتے ہیں تو وزن کرنے کی حاجت نہیں،

📗 *(تفصیل کےلئے دیکهئے بہارشریعت حصہ 15)*

💡بے احتیاطی سے بچنے کےلئے اسطرح حیلہ کیا جاسکتا ہے کہ شرکائے قربانی سارا گوشت ایسے بالغ مسلمان کو جو اس قربانی میں شریک نہ ہو ہبہ کردیں، یہ شخص سب میں اندازے سے گوشت تقسیم کرسکتا ہے

📙 *(تفصیل، بہارشریعت حصہ 15 و ردالمحتار کتاب الاضحیہ جلد 9)*

💡قربانی کا گوشت خود بهی کها سکتا ہے، اور غنی و فقیر کو بهی کهلا سکتا ہے، گوشت کے تین حصے کرلینا مستحب ہے، ایک حصہ غرباء کےلئے ایک رشتہ دار وں اور دوست احباب کےلئے، اور ایک حصہ اپنے گهر والوں کےلئے، کل صدقہ کرنا بهی جائز اور کل (گوشت) گهر ہی رکهه لے یہ بهی جائز ہے، اگر کنبہ بڑا ہو اور صاحب وسعت نہیں ہے تو بہتر یہ ہے کہ سارا گوشت اپنے بال بچوں ہی کےلئے رکهه چهوڑے

📔 *(بہارشریعت حصہ 15 بحوالہ فتاوی ہندیہ کتاب الاضحیہ باب خامس)*

💡حلال جانور کے سب اجزا حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں،  ان کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے، رگوں کا خون؛ پتا؛ پهکنا؛ علامات نر و مادہ؛ بیضے؛ غدود؛ حرام مغز؛ گردن کے دو پٹهے کہ شانوں تک کهنچے ہوتے ہیں؛ جگر کا خون؛ تلی کا خون؛ گوشت کا خون کہ ذبح کے گوشت میں سے نکلتا ہے؛ دل کا خون؛ پت یعنی وہ زرد پانی کہ پتے میں ہوتا ہے؛ ناک کی رطوبت کہ بهیڑ میں اکثر ہوتی ہے؛ پاخانہ کا مقام؛ اوجهڑی؛ آنتیں؛ نطفہ؛ وہ نطفہ کہ خون ہوگیا؛ وہ کہ گوشت کا لوتهڑا ہوگیا؛ وہ کہ پورا جانور بن گیا اور مردہ نکلا؛ یا بے ذبح مرگیا

📘 *( فتاویٰ رضویہ جلد20 صفحہ 240)*

💡بہتر یہ ہے کہ قربانی (ذبح) اپنے ہاتھ سے کرے اگر اچهی طرح ذبح کرنا جانتا ہو، اگر خود ذبح کرنا نہیں جانتا تو کسی صحیح العقیدہ مسلمان سے ذبح کرائے؛ اور وقت قربانی وہاں موجود ہو،
دوسرے سے ذبح کروایا اور خود اپنا ہاتھ بهی چهری پر رکھ دیا، کہ دونوں (قصاب اور مالک قربانی) نے ملکر ذبح کیا تو دونوں پر بسم اللہ  کہنا واجب ہے، ایک نے بهی جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا نام ترک کیا یا یہ خیال کرکے چهوڑ دیا کہ دوسرے نے کہہ لیا ہے مجهے کہنے کی ضرورت نہیں دونوں صورتوں میں جانور حلال نہ ہوا

📒 *(بہارشریعت حصہ 15 بحوالہ درمختار کتاب الاضحیہ)*
=============================
🖊 رشحاتِ قلم:
حضور "امین فکر رضا"
*حضرت علامہ محمد حامد سرفراز قادری رضوی*
(مدظلہ  النوراني)
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
📚 *فکر رضا* 🖊
_برًّصغیر و عرب تعاون ٹیم کی کارکردگی !_
موبائل: *00971-559060076*

💻 *فکر رضا فیس بوک:*
https://m.facebook.com/Fikr.E.Raza.Page/

🖥 *فکر رضا بلاگ:*
fikrerazafoundation.blogspot.com

📚 *فکر رضا مکتبہ (اسلامی کتب):*
http://alansarlibrary.blogspot.in/

فضائل و مسائلِ حج حصہ 20

🖊 *حج کے موقع پر فکر رضا کی پیشکش*
📱موبائل: *00971-559060076*
♻ حصہ 0⃣2⃣
=============================
🔪 *(قربانی کے مسائل)* 1⃣

💠 گائے (بهینس) اور اونٹ میں سات افراد شریک ہوسکتے ہیں، تمام شرکاء صحیح العقیدہ ہوں، اور سب کی نیت "تقرب" یعنی اللہ تعالی کا حق ادا کرنا مقصود ہو،  گائے کے شرکاء میں اگر ایک شخص کی نیت فقط گوشت حاصل کرنا ہو تو کسی کی بهی قربانی نہیں ہوگی

📔 *( بہارشریعت حصہ 15 بحوالہ درمختار و رد المحتار کتاب الاضحیہ)*

💠 اگر کوئی شخص سات حصوں میں سے کچھ حصے عقیقے کےلئے مقرر کرلے تو جائز ہے
کہ عقیقہ بهی تقرب کی ایک صورت ہے

📙 *(ردالمحتار،  کتاب الاضحیہ جلد 9 فتاویٰ رضویہ جلد20 صفحہ 595؛ بہارشریعت حصہ 15)*

💠 عام طور پر دیکهنے میں آتا ہے کہ تمام گهر والوں کی طرف سے ایک بکرا قربان کردیا جاتا ہے، جبکہ صاحب نصاب ہونے کے سبب اس گهر کے کئی افراد پر قربانی واجب ہوتی ہے؛ اس صورت میں ایک بکرا بهیڑ وغیرہ سب کو کفایت نہیں کریگا، جو جو صاحب نصاب ہیں خواہ مرد ہو یا عورت سب کی طرف سے الگ الگ قربانی کیجائی

📗 *(تفصیل کےلئے دیکهئے فتاویٰ رضویہ جلد20 صفحہ 369)*

💠 میت کی طرف سے ایصال ثواب   کی نیت سےقربانی کرنا جائز ہے، اس میں چند باتیں ملحوظ خاطر رہیں

(1) اگر میت کی طرف سے قربانی کرنے والا خود صاحب نصاب ہے اور ایک ہی جانور کی استطاعت رکهتا ہے، تو اسے قربانی اپنی طرف سے کرنی چاہئے، کہ اس پر واجب ہے میت پر واجب نہیں، اور واجب کا ترک گناہ ہے؛

(2) میت کی طرف سے قربانی  کی  تو اس کا گوشت خود بهی کها سکتا ہے رشتہ داروں کو اور غربا میں تقسیم کرسکتا ہے

(3) اگر مرنے والے کی وصیت و حکم پر قربانی کی تو اس صورت میں تمام گوشت صدقہ کردے خود نہیں کها سکتا؛

📘 *(فتاویٰ رضویہ جلد20  صفحہ 456 ؛ بہارشریعت حصہ 15)*
=============================
🖊 رشحاتِ قلم:
حضور "امین فکر رضا"
*حضرت علامہ محمد حامد سرفراز قادری رضوی*
(مدظلہ  النوراني)
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
📚 *فکر رضا* 🖊
_برًّصغیر و عرب تعاون ٹیم کی کارکردگی !_
موبائل: *00971-559060076*

💻 *فکر رضا فیس بوک:*
https://m.facebook.com/Fikr.E.Raza.Page/

🖥 *فکر رضا بلاگ:*
fikrerazafoundation.blogspot.com

📚 *فکر رضا مکتبہ (اسلامی کتب):*
http://alansarlibrary.blogspot.in/

Monday, September 12, 2016

فضائل و مسائلِ حج حصہ19

🖊 *حج کے موقع پر فکر رضا کی پیشکش*
📱موبائل: *00971-559060076*
♻ حصہ 9⃣1⃣
=============================
🐑 *قربانی کے جانوروں کے متعلق مسائل*2⃣

🛢سوال:
کیا خصی جانور کی قربانی جائز ہے؟  کیونکہ اس میں رگیں کوٹ دی جاتی ہیں، یہ عیب کے زمرے میں نہیں آتا؟

☪ جواب:
خصی جانور کی قربانی جائز اور سنت سے ثابت ہے،
حضرت جابر حضرت ابوہریرہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنهم سے مروی ؛ سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم، نے ذبح کے دن دو مینڈهے سینگ والے، چت کبرے، خصی کیے ہوئے ذبح کیے

📒 (مسندِ امام احمد، مسند انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ، جلد 4 صفحہ 5؛؛ سنن ابوداؤد، کتاب الضحایا، باب مایستحب من الضحایا؛ سنن ابن ماجہ، ابواب الاضاحی باب اضاحی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم؛ مشکوتہ باب فی الاضحیہ فصل ثانی)

🔸امام اهلسنت رحمہ اسی طرز کے سوال کہ خصی جانور کی قربانی جائز ہے؟  کے جواب میں فرماتے ہیں،  جائز ہے کہ اس کی کمی سے اس جانور میں عیب نہیں آتا بلکہ وصف بڑهه جاتا ہے کہ خصی جانور کا گوشت بہ نسبت فحل کے زیادہ اچها ہوتا ہے. ہندیہ (فتاوی عالمگیری) میں خلاصہ سے منقول ہے کہ ذکر کٹا (جانور) جو جفتی کے قابل نہ رہا وہ قربانی میں جائز ہے

📗( فتاوی رضویہ جلد20 صفحہ 458)

🛢سوال:
کیا بهینس بهی قربانی کا جانور ہے؛ اگر ہے تو اس کا کیا ثبوت ہے؟

☪ جواب:
لغت عرب میں بهینس کو "جاموس" کہتے ہیں (المنجد) اس کا شمار گائے کی نوع یعنی قسم میں ہوتا ہے، امام اهلسنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری برکاتی قدس سرہ العزیز نے اپنی مایہ ناز کتاب؛" هادی الاضحیہ بالشاتہ الهندیہ" میں بهینس کی قربانی کے جواز میں کثیر کتب فقہ سے استدلال فرمایا؛
جن میں ہدایہ؛
خانیہ؛
رمز الحقائق؛
تکملہ طوری ،
مسخلص الحقائق، 
شرح ملا مسکین،
طحاوی علی الدر،
شرح نقایہ برجندی؛
جامع الرموز،
جامع المضمرات،
مجمع الانہر عن المحیط؛
فتح اللہ المعین عن التبیین؛
بحرالرائق،
ولوالجیہ،
هندیہ عن البدائع؛
ردالمحتار ؛ شامل ہیں ان کتب کے نام گنوا کے فرماتے ہیں، ضرورت پر ساری کتابیں پیش کی جاسکتی ہیں؛ الحمدللہ ساری کتابیں میری ذاتی ہیں؛
(  فقیر بارگاہ رضا راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ سیدی اعلی حضرت رحمہ کی برکت سے مذکورہ کتب میں سے اکثر اس حقیر کے پاس بهی ہیں)

ان میں سے چند عبارات پیش خدمت ہیں؛ علامہ طوری لکهتے ہیں؛ الجاموس لانہ نوع من البقر، بهینس گائے کی نوع سے ہے

📔 ( تکملہ من البحرالرائق، کتاب الاضحیہ جلد 8 صفحہ 177)

امام برہان الدین رحمہ فرماتے ہیں؛ ویدخل فی البقر الجاموس...

📙 (ہدایہ کتاب الاضحیہ جلد 4 صفحہ 449)

فتاوی ہندیہ میں ہے، والجاموس نوع من البقر

📕 ( فتاویٰ ہندیہ کتاب الاضحیہ باب خامس جلد5 صفحہ 297)

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ فرماتے ہیں، جاموس نوعی از بقرست و جائز ست

📕 (اشعتہ اللمعات کتاب الصلوٰہ باب الاضحیہ جلد 1 صفحہ 608)

📋 *ان تمام عبارات کا خلاصہ یہی ہے کہ جاموس یعنی بهینس گائے کی قسم سے ہے اور قربانی کا جانور ہے، اسکی عمر بهی قربانی کےلئے دو سال ہے*

🛢سوال:
گابهن (حاملہ) بکری یا گائے کی قربانی جائز ہے؟ اور اگر اس کے پیٹ سے زندہ بچہ نکلے اس کےلئے شریعت کا کیا حکم ہے؟

☪ جواب:
سیدی اعلی حضرت رحمہ فرماتے ہیں؛ دودھ کے جانور یا گابهن کی قربانی اگرچہ صحیح ہے مگر ناپسند ہے، حدیث میں اس سے ممانعت فرمائی

📒 (یہ حدیث سنن ابن ماجہ ابواب الذبآئح میں ہے) فتاوی رضویہ جلد20 صفحہ 370) 

🔸اسلئے گابهن جانور کی قربانی سے اجتناب کرنا بہتر ہے، اور اگر پیٹ سے زندہ بچہ نکل آئے تو اسے ذبح کیا جاسکتا ہے اور اس کا گوشت کهانا بهی جائز ہے، اگر مرا ہوا بچہ ہو تو اسے پهینک دے مردار ہے

📗( بہارشریعت حصہ 15)
=============================
🖊 رشحاتِ قلم:
حضور "امین فکر رضا"
*حضرت علامہ محمد حامد سرفراز قادری رضوی*
(مدظلہ  النوراني)
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
📚 *فکر رضا* 🖊
_برًّصغیر و عرب تعاون ٹیم کی کارکردگی !_
موبائل: *00971-559060076*
***************************
💻 *فکر رضا فیس بوک:*
https://m.facebook.com/Fikr.E.Raza.Page/
===========================
🖥 *فکر رضا بلاگ:*
fikrerazafoundation.blogspot.com
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
📚 *فکر رضا مکتبہ (اسلامی کتب):*
http://alansarlibrary.blogspot.in/